عورت کے تحفظ کیلئے سوچ کا ارتقا ضروری ہے۔۔۔۔۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

السلام علیکم

جب میں پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ میری سوچ میں ارتقا کا عمل ہر گزرتے سال کے ساتھ تیز ہوتا جا رہا ہے۔ جو سنجیدگی اور میچیورٹی میری زندگی میں پندرہ سے پچیس سال کے درمیان آئی، اس سے دوگنی میچیورٹی اگلے پانچ سال میں آ گئی۔۔۔۔ درمیان میں ایک دور ایسا بھی آیا جب سوچ صرف ٹھہرے پانی جیسی ہو کر رہ گئی۔۔۔۔۔ مگر جب ارتقا کا عمل پھر سے جاری ہوا تو تیس سے پنتیس سال کے درمیان یہ عمل کچھ اور تیز ہوا۔۔۔۔ پچھلے دو تین سال کے اندر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ساری زندگی کا سیکھا ایک طرف اور یہ چند سال ایک طرف۔۔۔۔۔

 

حیرت انگیز ہے نا یہ سب کچھ۔۔۔۔۔

 

ایک نوعمر بچی بچے کی سوچ اور طرح سے ہوتی ہے۔۔۔۔۔ پھر جوانی کا جوش اور ولولہ زندگی کو ایک نئے رخ پر لے جاتا ہے ۔۔۔۔ مرد کی زندگی تنوع کا شکار رہتی ہے مگر عورت شادی کے بعد اکثر رکے ہوئے پانی جیسی ہونے لگتی ہے اور کم کم ہی اپنے گرد قائم حصار سے باہر نکل کر سوچتی ہے ۔۔۔۔ایسے میں کچھ کر گزرنے کا ارادہ کسی بھی عورت کے لئے بے معنی اور بے مقصد ہوتا ہے۔۔۔۔ اکثر جب عورت کے حقوق پر بات کی جائے تو  بحث جھگڑے کی شکل اختیار کر جاتی ہے اور نوبت دشنام تراشی تک پہنچ جاتی ہے ۔۔۔۔ مرد اور خواتین الگ الگ پارٹیاں بنا لیتے ہیں اور کبھی کبھی تو بہنیں بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنی بہنوں کو نشانہ بناتی ہیں۔۔۔۔

 

مگر اب یہ  احساس ہونے لگا ہے  کہ سوچ کچھ بدل رہی ہے ۔۔۔۔ ذہنوں پر پڑی گرد ہٹ رہی ہے ۔۔۔۔روایات سے ہٹ کر سوچنے کا رواج بڑھ رہا ہے ۔۔۔۔ سچ اور جھوٹ کی تمیز کیلئے دین کی طرف زیادہ رجوع کیا جا رہا ہے اور صدیوں سے قائم خودساختہ مفروضوں سے ہٹ کر کہا سنا جا رہا ہے ۔۔۔۔ ریت روایت اچھی چیز ہے مگر کہر سے کبھی کبھی باہر نکل کر دیکھنا بھی اچھا ہے ۔۔۔۔ اب لگتا ہے کہ ایک عام شخص بھی اپنے ذہن سے کبھی کبھی سوچنے کی کوشش کرنے لگا ہے مگر بہتری کی گنجائشابھی  باقی ہے۔

 

ہم سب کو مسئلے کا پتا ہے مگر مسئلے کے حل پر کوئی بات نہیں کرتا ۔۔۔۔کہتے ہیں پاکستان میں علیحدگی کیلئے عورت دس دس سال کورٹ میں دھکے کھاتی ہے جبکہ اس دوران مرد نئی زندگی شروع کرنے کے بعد نئی بیوی کے ساتھ نئے بچے بھی پیدا کر چکا ہوتا ہے۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں جہاں غیر شادی شادی لڑکی کی مارکیٹ ویلیو ہر سال گھٹتی ہے وہاں طلاق یافتہ کی تو کوئی ویلیو ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ ایسے میں عورت طلاق کا سوچے بھی کیسے!

 

اگر سوچ بھی لے تو اس کی اپنی ہم جنس اس کا ساتھ نہیں دیتیں کجا مرد ۔۔۔۔ اس سے بڑا المیہ ہے کہ ہمارے ہاں مرد دوسری شادی کرتا ہی تب ہے جب اس نے پہلی بیوی بچوں کی حق تلفی کرنی ہو ۔۔۔۔ ایسے میں عورت کے طلاق مانگنے کی صورت میں  مرد نا صرف بچوں کا خرچہ نہیں دیتا بلکہ عورت اکثر ہی اپنا جائز حق مہر اور اخراجات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتی ہے ۔۔۔۔دین اس معاملے میں کیا کہتا ہے مجھے بتانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔ سب جانتے ہیں ، سب سمجھتے ہیں۔۔۔۔

 

آج تک میں نے پاکستان کے کورٹ میں کوئی ایسا مقدمہ آیا نہیں سنا جہاں عورت نے تقاضا کیا ہو کہ میں نے اس مرد کے پیچھے اپنا کریئر، اپنی تعلیم، اپنا جہیز برباد کیا ۔۔۔۔ اپنے جسم و جاں کو اس کے اس کے بچوں کے لئے وقف کیا ۔۔۔۔ اپنے دن رات کو اس کیلئے تج کیا ۔۔۔۔ اپنی ذات کی نفی کر کے اسے اونچے منبر پر بٹھایا ۔۔۔۔ اس نے جائیداد میرے مقدر سے بنائی۔۔۔۔ اب مجھے اس کی جائیداد میں سے آدھا حصہ دیا جائے!

 

جس دن ہمارے ہاں کی عورت کو اتنا شعور آ جائے گا اور جس دن ہمارے علماء اور قانون ساز اجتہاد کے اس معیار پر پہنچ جائیں گے تو ہمارے دن بدل جائیں گے ۔۔۔۔ جس دن ہمارے علماء قرآن سے نکاح کروانے والے جاگیرداروں کو کافر قرار دیں گے ، اس دن ہماری بچیاں سر اٹھا کر چل سکیں گی اور جس دن ہمارے علماء اور قانون ساز زنا کے الزام میں عورت سے پہلے مرد کو سنگسار کریں گے اس دن اس قوم پر سے نحوست کے بادل چھٹ جائیں گے۔۔۔۔

 

وقت تیزی سے گزر رہا ہے ۔۔۔۔ آپ بالخصوص خواتین اپنی سوچ کے ارتقا کے عمل کو تیز کریں ۔۔۔۔ مانیں نہ مانیں قومیں عورت کے شعور سے بنتی ہیں ۔۔۔۔ ہماری حالت زار ہماری عورت کے شعور اور کم مائیگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔۔۔۔ ایک بے سمت بچی ایک بے سمت عورت، بے سمت بیوی ، اور بے سمت ماں کا روپ اختایر کر لیتی ہے ۔۔۔۔ اپنی سمت کا تعین کریں اور اپنے سوچ کے ارتقا کے عمل کو تیز کریں ۔۔۔۔ اپنے حقوق اور فرائض کی تعریف ٹھیک کریں اور اپنی حق تلفی کو سمجھیں ۔۔۔۔ جب تک آپ یہ نہیں سمجھیں گی کہ آپ کی حق تلفی ہو رہی ہے ، آپ اپنے ساتھ ہوئے ظلم کو سمجھ نہیں سکیں گی ۔۔۔۔جب تک آپ اپنے پر ہوئے ظلم کو نہیں سمجھ سکیں گی تو آپ اپنا دفاع نہیں کر سکیں گی ۔۔۔۔ اور جب آپ اپنا دفاع نہیں کر سکیں تو پھر آپ اپنے بچوں کا دفاع کیسے کریں گی ۔۔۔۔ آپ کی بیٹی کیسے محفوظ رہے گی!!!