غیرت کے نام پر قتل ۔ صدیوں سے جاری رسم

 

نور المالکی عراقی  والدین کی بیٹی تھی۔ اس کی ماں امریکی ایجنسیوں کو عراقی کلچر کی تعلیم دیتی تھی ۔ نور جب ہائی سکول میں پہنچی تو نظریات کے ٹکراؤ کی وجہ سے  اس کی والدین سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ہائی سکول کے دوران اس کے والد نے عراق واپس لیجا کر اس کا نکاح بھی کر دیا۔ نور کے اٹھارہ سال کے ہونے تک حالات اتنے کشیدہ ہو چکے تھے کہ ایک دن نور نے اپنے باپ کی گاڑی کہیں دے ماری ۔ ایکسیڈنٹ کی جگہ جب پولیس پہنچی تو نور کا باپ انتہائی غصے میں وہاں موجود تھا۔ بقول پولیس والے کے المالکی نے یہاں تک کہا کہ ان کی تہذیب اور تمدن امریکی قانون سے بالاتر ہے اور اگر اسے ضرورت پڑی تو اپنی روایات کے پیچھے وہ قتل کر کے ساری زندگی جیل میں گزارنےکو فوقیت دے گا۔

 

 

 

 بات یہاں ختم ہو جاتی تو اچھا تھامگر ایسا نہیں ہوا۔ نور اٹھارہ سال کی ہوتے ہی ماں باپ سے الگ ہو گئی اور اور ایک عراقی خاتون امل جسے وہ آنٹی کہتی تھی کہ ساتھ رہنے لگی۔ امل کے ساتھ رہنے میں شاید امل کے بیٹے میں نور کی دلچسپی بھی ہو سکتی ہے۔ ایک دن جب نور اور امل ایک کار پارکنگ سے پیدل گزر رہی تھیں تو المالکی نے ان  پر اپنی گاڑی چڑھا دی اور وہاں سے بھاگ گیا۔ یہ قصہ 2009  کا ہے اور امریکی سٹیٹ ایریزونا میں پیش آیا۔   

 

 

 

باہر کے ممالک میں اونر کلنگ یا غیرت کے نام پر قتل کی بازگشت اکثر سنائی دی جانے لگی ہے۔ اسی طرح کا ایک قصہ کنیڈا میں پچھلے دنوں پیش آیا تھا۔ جب بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو مسلمان کمیونیٹی مخمصے میں پھنس جاتی ہے۔ حق اور سچ کے ساتھ کی بجائے نسل اور قوم کا ساتھ دینے کو فوقیت دی جاتی ہے۔ میرے لئے ایسے واقعات اپنے اندر ایک تکلیف دہ سی کشش رکھتے ہیں۔ جب بھی کوئی ایسا واقعہ ہو گزرتا ہے تو میرا اصطراب بڑھ جاتا ہے چاہے وہ پاکستان میں ہو یا امریکہ میں یا پھر دنیا کے کسی بھی کونے میں۔ اس بیچینی کی سب سے بڑی وجہ مسلمانوں کا عمومی رویہ اور ان کے نظریات ہیں۔ ایسے واقعات کو جس قدر سرسری انداز سے ہمارے ہاں لیا جاتا ہے، ایسا دنیا کے کسی کونے میں نہیں ہوتا۔

 

 

 

دنیا میں محبت کے نام پر عورت قتل ہوتی ہے تو کہیں نفرت کے نام پر۔ کبھی وہ زندہ جلائی جاتی ہے تو کبھی تیزاب سے جھلسائی جاتی ہے۔ ریپ اور گینگ ریپ کا بھی شکار ہوتی ہے اور اغوا بھی کی جاتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی یافتہ اقوام میں بھی عورت کا استحصال زور شور سے جاری ہے ۔ مگر حیرت انگیز طور پر مغرب میں اونر کلنگ یا غیرت کے نام پر عورت کو بھینٹ نہیں چڑھایا جاتا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مغرب میں غیرت کا کوئی کنسیپٹ نہیں ہے تو اس لئے یہاں غیرت کے نام پر قتل کیسے کیے جا سکتے ہیں۔ چلیں اسے سچ سمجھ لیتے ہیں اور اپنی تہذیب کی بات کرتے ہیں۔

 

 

 

ہماری تہذیب عرب کی تہذیب سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ عرب جن پر نبی الآخرزمان، رحمت العالمین، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھیجے گئے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ عرب اپنی بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت کا وجود باعث شرم اور ذلت بنتا ہے اور باپ بھائیوں کے سر شرم سے جھکانے کا باعث بنتا ہے۔ محمد ﷺ    کی آمد نے نہ صرف عرب تمدن کو بدل دیا بلکہ دنیا میں پہلی بار عورت کو امان اور تکریم ملی کہ وہ دنیا میں سر اٹھا کر جینے لگی۔ کہتے ہیں کہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہ کے نام کا مطلب امان دینے والی ہے یعنی ان کا وجود ایک ایسے وجود کو اس دنیا میں لانے کا باعث بنا جس نے کمزور کو طاقتور بنا دیا ، رذیل کو عزت دے دی اور تمام دنیا کی عورتوں کو زمانہ جہالیہ کے رسم و روااج سے امان دی۔

 

 

 

مگر دیکھا جائے تو محمد عربی کی امت میں سے کچھ  آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں وہ محمد عربی کے آنے سے پہلے کھڑے تھے۔ محمد کے آنے سے پہلے بھی عورت کو باعث شرم سمجھ کر زندہ درگور کر دیا جاتا تھا اور اب بھی اس کی ذات سے منسوب شرمندگی کے ڈر سے اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہنے اور خود کو  دنیا کی افضل ترین قوم سمجھنے والے غیرت کے نام پر جس بے غیرتی اور ڈھٹائی کا ثبوت دیتے آ رہے ہیں، اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ چودہ سو سال سے پہلے کے عرب بدو اور آج کے ایسے باپ، بھائی ، شوہر میں کیا فرق ہے جو غیرت کے نام پر اپنی بیٹی، بہن، یا بیوی کا قتل کر دیتے ہیں۔ وہ بھی اپنی عزت اور ناموس کیلئے قتل کرتے تھے اور آج کے سو کالڈ مسلمان بھی اسی کو وجہ بنا کر قتل کر دیتے ہیں ۔

 

 

 

جب اختر مینگل جیسے لوگ تین عورتوں کے زندہ دفنائے جانے کو اپنے کلچر کا نام دیتے ہیں تو نام نہاد مولوی اپنے ممبروں پر بیٹھے مسکراتے رہتے ہیں اور کسی سیاست دان کے ماتھے پر بل نہیں پڑتے۔ عام عوام ظلم کی چکی میں پس پس کر خود بھی ظالم ہو چکی ہے۔۔۔۔ اسے کوئی ظلم اب ظلم نہیں لگتا۔ انسانی حقوق کی تنظمیں بھی کچھ دن واویلا کر کے چپ کر جاتی ہیں اور این جی اوز بھی ۔۔۔۔ ااور عورت تو ویسے بھی کمزور ہے اور باقی اسے اس نفرت نے کمزور کر دیا ہے جو اسے معاشرے سے مل رہی ہے۔

 

 

 

جی ہاں بطور معاشرہ ہم عورت سے نفرت کرتے ہیں ۔۔۔۔ عورت بھی عورت سے نفرت کرتی ہے اور مرد تو کرتا ہی ہے۔ ہمارا بس چلے تو ہم چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں اور ہر پیدا ہونے والی بچی کو زندہ گاڑھ دیں مگر ہم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔۔ ہمیں مہذب ہونے کا ٹیگ لگوانا ہے اور تعلیم یافتہ کا بھی۔ اس لئے ہم کھلم کھلا اپنی بچیوں کو زندہ درگور نہیں کرتے۔۔۔۔ مگر جیسے ہی ہمیں موقع ملتا ہے تو ہم ماں، بیٹی ، بہن، بیوی کے رشتے کو بلائے طاق رکھ دیتے ہیں اور بہت خاموشی اور سفاکی سے کسی نا کسی عورت کو غیرت کے نام پر قتل کر کے چودہ سو سال سے بھی پرانی رسم کو پورا کر کے اپنی روایات کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

 

 

 جب یہ روایت مدہم پڑنے لگتی ہے تو کوئی نا کوئی جیالا اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور خدائی قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے اور بیٹیوں کو خدا بن کر اس دنیا میں کبھی تو ان کے  عمال کی اور کبھی نا کردہ گناہوں کی سزا دیتا ہے۔۔۔۔  پھر کوئی نور المالکی قتل ہو جاتی ہے اور پھر کوئی المالکی کورٹ میں ڈھکوسلے بازی کرتا ہے ۔۔۔۔ ہمارے ہاں تو اس کی بھی نوبت نہین آتی ۔ ہم تو ایسے جی دار کے گلے میں پھولوں کے ہار  ڈالتے ہیں اور ڈھول تاشے کے ساتھ اسے کندھوں پر بٹھاتے ہیں ۔۔۔۔ دین کو زندہ رکھنا نعوذباللہ اتنا ضروری نہیں جتنا اپنے آباواجداد کی قبروں کو پوچنا ضروری ہے ۔۔۔۔ اے مسلمان امت تم سے لات و منات خوش ہوئے۔۔۔۔ تم نے پھر اپنی بیٹی، بہن، بیوی کی قربانی دی ۔۔۔۔تمھاری لازوال غیرت کو سلام!

 

 

حافظ محمد اجمل ۔۔۔۔ محکمہ تعلیم کا فوری انصاف

 

حیرت انگیز۔۔۔۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر تحقیقات بھی مکمل اور مجرم کو کیفر کردار تک بھی پہنچا دیا گیا ۔۔۔۔ بہت خوب! پنجاب کے وزیر تعلیم کی پھرتیاں اور تحقیقاتی کمیٹی کی چابکدستی دیکھ کر تو خیال آ رہا ہے کہ انہیں تو آئی ایس آئی میں ہونا چاہئے تھا یا میمو گیٹ کی تحقیقات کیلئے محکمہ تعلیم سے لوگ ادھار لئے جانے چاہئے تھے۔

 

پاکستان کی تاریخ میں ایسا فوری اور سستا انصاف کسی کو نہیں ملا ۔۔۔۔ حافظ محمد اجمل کی خوش قسمتی کہیں یا بد قسمتی کہ ان کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا دی گئی ہے جبکہ جذبات تو ساری قوم کے وہی تھے جو حافظ صاحب کے تھے ۔۔۔۔ قابل افسوس بات تو یہ ہے کہ ٹیچر یونینز خاموش تماشائی ہیں اور میڈیا بھی گم صم ہے۔

 

اساتذہ کی اپنے ہم منصب کیلئے بے حسی دیکھ کر افسوس ہوا۔۔۔۔ کیا انہوں نے فوج، سیاستدانوں ، اور بیوروکریسی سے کچھ نہیں سیکھا۔۔۔۔ کیا آج تک فوج نے کسی فوجی کا احتساب کیا ۔۔۔۔ آج تک کسی سیاست دان نے کسی سیاست دان کو کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا ۔۔۔۔ کیا کسی بیوروکریٹ نے کسی دوسرے سرکاری ملازم پر کرپشن ثابت ہونے دی!!!

 

نہیں نا!۔۔۔۔ پھر اساتذہ نے کس لئے حافظ صاحب کو قربانی کیلئے پیش کر دیا ۔۔۔۔ کیا انہوں نے آئین کی خلاف ورزی کی یا پھر ملک سے غداری؟ کیا انہوں نے دہشت گردی کی یا کسی پر تیزاب پھینکا؟ کیا انہوں نے کسی کا خون ناحق کیا یا پھر کسی کا مال غصب کیا؟۔۔۔۔ ان کی غلطی صرف یہ تھی کہ انہوں نے اس سوال کو زبان دی جو ہم سب کے ذہنوں میں کلبلاتا رہتا ہے مگر کسی کے پاس جواب نہیں ہے۔۔۔۔

 

پاکستان کے آئین سے انحراف کرنے والوں کو تو آپ سعودیہ عرب، انگلینڈ، پیرس، بھارت اور سوئیزرلینڈ جانے دیتے ہیں تاکہ وہ پاکستان کی سرزمین سے لوٹے ہوئے پیسے سے عیش کریں۔ مگر قوم کے بچوں سے ایک جائز سوال کرنے والے کو آپ اس کے پینشن کے حق سے محروم کر دیتے ہیں جو اس نے اپنی محنت کی کمائی میں سے سالہا سال کٹوائی تھی ۔۔۔۔ شرم کا مقام ہے اس بے غیرت کیمٹی کیلئے جس نے حافظ محمد اجمل کو اس سزا کا حقدار ٹھہرایا۔۔۔۔!

 

حافظ محمد اجمل صاحب آپ جیسے لوگوں کو باغیرت قومیں ہیرو مانتی ہیں مگر افسوس کہ ہم نہیں ۔۔۔۔ آپ کے سوال کا بیشک  کوئی سیاسی محرک نہیں تھا مگر قومی فریضہ ضرور ہے کہ ہم یہ سوال خود سے کریں کہ "ہمارا نظام زندگی کس چیز پر قائم ہے؟” مگر اس کا جواب تو شاید سب کو معلوم ہے۔۔۔۔ ہمارا نظام جھوٹ، کرپشن، منافقت، بے ایمانی، ظلم اور ایسے ہی عوامل پر قائم ہے اس سب کا شہنشاہ زرداری اور اس کے نوے رتن ہیں ۔۔۔۔ حافظ محمد اجمل آپ کی جرات کو سلام! 

 

 

 

  

پاکستان کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر۔۔۔۔

نویں جماعت کے پرچے میں  گیلانی اور زرداری کے نام آنے پر حکومت وقت یعنی پیپلز پارٹی سیخ پا ہے اعوان اس پر خوب واویلا کر رہی ہے ۔۔۔۔ بندہ پوچھے کہ واویلا تم لوگوں کو کرنا چاہئے کہ عوام کو ۔۔۔۔ کہاں تعلیم جیسا اعلٰی کام اور کہاں گیلانی اور زرداری جیسے ناپاک لوگ ۔۔۔۔

میرا خیال ہے کہ بنیادی غلطی ممکنہ جوابات کی نہیں ہے ۔۔۔۔ جوابات تو انتہائی مناسب تھے بلکہ ان میں تو چار پانچ درجن ناموں کا مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے، بس سوالات میں غلطی ہو گئی ۔۔۔۔ میرے خیال میں سوالات کچھ ایسے ہونے چاہئے تھے:

1) بوتل میں سے نکلنے والے جن کا نام بتائیں؟

2) علی بابا کے چوروں کی ٹیم کا ریکارڈ کس ٹیم نے توڑا؟

3) اس وزیر اعظم کا نام بتائیں جو ملتان کے قصائی محلے سے نکل کر ایوان وزیر اعظم میں پہنچا؟

4) دور جدید کا محمد شاہ رنگیلا کسے کہا جا سکتا ہے؟

5) سانپ کے منہ کی چھچھوندر کی جدید مثال دیں؟

6) "کھا جاواں تے ڈکار وی نہ ماراں” کا معقولہ کس سیاست دان پر فٹ آتا ہے؟

7) کون سے سیاست دان ناصرف کوئلوں کی دلالی کا اقرار کرتے ہیں بلکہ ملک و وطن کی دلالی میں بھی ملوث ہیں ۔۔۔۔(جرنیلوں کا نام دینے میں بھی قباحت نہیں)؟

8)اگر آپ کو دو قتل معاف کیے جائیں تو آپ کن دو لوگوں کا انتخاب کریں گے؟ ( دو سے زیادہ جوابات منتخب کرنے والے کو اضافی نمبر دیئے جائیں گے)۔

پیپر بنانے والے اساتذہ کی جرات  اور بذلہ سنجی کی داد دینا بنتی ہے ۔۔۔۔ کوئی اور ملک ہوتا تو ہنسی میں اڑا دیتا مگر یہ مملکت خدا داد ہے ۔۔۔۔ یہاں خدا بن بیٹھنے والوں سے اگر کوئی یہ پوچھ لے کہ "پاکستان کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر ہے؟” تو انہیں غصہ آ جاتا ہے کیونکہ یہ تو سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے وقت  بھی بیڈ سائیڈ پر پڑے فون کو کھڑکانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ اوہ اس سے یاد آیا کہ یہاں کچھ جرنلوں کے نام بھی ہو جاتے تو کیا ہی بات تھی ۔۔۔۔ اس دلالی میں کچھ نا کچھ تو ان کے ہاتھ بھی کالے ہوں گے  اور چند سال بعد جب یہ جرنل  باہر کے ملکوں میں رہ رہے ہوں گے تو سب سامنے بھی آ جائے گا۔ پھر ایک کمیشن بنا دیا جائے گا یا کوئی جسٹس ازخود نوٹس لے لے گا۔۔۔۔ بس جاتے جاتے اساتذہ سے گزارش ہے کیوں ناحق اپنی روزی پر لات ماری ۔۔۔۔ذہنی غلام قوموں کی ذہنی صلاحتیں چیک نہیں کی جاتی ۔۔۔۔ ان میں لچک پیدا کی جاتی ہے ۔۔۔۔ اور اس  کام کا طریقہ ہمارے حا   کمین کو خوب آتا ہے!!!

آپ اساتذہ کی جرات کو سلام کہ حق کا پرچم تو کوئی بھی، کہیں بھی، کسی بھی طریقے سے بلند کر سکتا ہے۔۔۔۔ آپ کی جرات شاید آنے والے وقتوں میں سنگ میل ثابت ہو۔۔۔شاید۔

اصل مسئلہ

ہم روز اول سے ہی عورت کے نوکری کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں بحث سنتے اور پڑھتے آئے ہیں۔ مختلف فورمز اور اخبارات میں بھی عرصہ دراز سے اس مسئلے پر کئی پہلوؤں اور کئی زاویوں سے بات چیت ہو چکی ہے۔ بلکہ کئی دفعہ تو موضوع کچھ اور تھا مگر بات خواتین کی نوکری کرنے کی گنجائش اور اس کے مضر اثرات، اسلامی، معاشرتی، اور اخلاقی نقطہء نظر سے، پر ختم ہوئی۔ ابھی بھی ہمارے افسانوں میں افسانہ نگار خواتین  دوغلے پن کا ثبوت دیتے ہوئے کام کرنے والی خواتین کی حوصلہ شکنی  کرتی نظر آتی ہیں جبکہ وہ خود کام کرنے والی خواتین میں شمار ہوتی ہیں۔ 

مگر اس سب بحث پر وقت ضائع کرتے ہوئے ہم میں سے اکثر نے یہ نہیں سوچا کہ کیا مسئلے کا وجود بھی ہے یا نہیں! ہم عورت کے نوکری کرنے کو براہ راست تربیت اولاد اور گھرداری کو نظر انداز کرنے تک لے جاتے ہیں مگر اس سب میں ہم اپنے تجربے اور مشاہدے کو کہیں پیچھے ڈال دیتے ہیں۔ کم از کم اس لاحاصل بحث سے پہلے دیکھ تو لیں کہ اس کا اطلاق ہم پر ہوتا بھی ہے یا نہیں!

اگر صرف پاکستان کی بات کریں تو یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں کی پچیس سے تیس فیصد آبادی بمشکل خواندہ ہے۔ ہاں یونیسف اور یونیسکو کے اعداد شمار وہی کچھ کہتے ہیں جو کچھ ہماری حکومت ان کو فراہم کرتی ہے۔ ایسا ملک جہاں خواندگی کی شرح اسقدر کم ہے، وہاں خواتین کی تعلیم کی شرح کیا ہو گی اور نوکری کرنے والی خواتین کی شرح تو یقیناً اس سے بھی بہت کم ہو گی۔ پھر کونسے اثرات اور کیسے اثرات۔۔۔۔کہیں یہ واویلا قبل از وقت اور حقائق سے فرار تو نہیں؟

اب آئیے ایک اور حقیقت کی طرف کہ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ جو زراعت سے وابستہ ہے ، اسکی عورتیں تو صدیوں سے کھیتی باڑی میں اپنے مردوں کا ہاتھ بٹا رہی ہیں۔ نہ تو ان کے کام کی انہیں مناسب مزدوری ملتی ہے اور نہ ہی انہیں "ورکنگ ویمن” میں شمار کیا جاتا ہے اور نہ ہی عورتوں کے حقوق کی کوئی تنظیم ان کے حق کیلئے لڑ رہی ہے۔ یہ اپنی اولاد کی تربیت اب بھی ویسی ہی کر رہی ہیں جیسی سو سال پہلے کر رہی تھیں، کیونکہ انکی زندگی میں تو کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس کے بعد آتے ہیں اس بات کی طرف کہ ہمارے ہاں کی عورت کب اور کیسے نوکری کرنے کی طرف راغب ہوئی اور اس کے اسکی خانگی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو نوے کی دہائی میں لڑکیوں میں نوکری کرنے کا رجحان زیادہ ہوا۔ اسی دور میں گلی کی ہر نکڑ پر پرائیویٹ سکولوں کا رجحان بھی تقویت پا رہا تھا۔ ایسے میں گھر میں فارغ بیٹھی لڑکیوں نے تعلیم جاری نہ رکھ پانے کی وجہ سے یا پھر شادی نہ ہونے کی وجہ سے ان سکولوں میں نوکری کرنے کو گھر میں فارغ بیٹھنے پر ترجیع دی۔

اگر ان سب باتوں کو صحیح مان لیا جائے تو ان میں سے اکثر لڑکیوں کی شادی نوے کی دہائی کے درمیان یا آخیر میں ہوئی ہو گی؛ یعنی ان کے بچے اب دس سے اٹھارہ سال کے درمیان میں ہو گے۔ یہ میں ان خواتین کی بات کر رہی ہوں جو ہماری پچیس فیصد خواندہ آبادی کا آدھے سے کم حصہ ہیں۔ ان میں سے بھی بہت سی نے شادی کے بعد نوکری چھوڑ دی ہو گی۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرے میں جو بے راہ روی پھیلی ہوئی ہے، وہ تو ہر عمر کے لوگوں میں ہے۔ قانون شکنی، رشوت، قتل، زنا، اغوا، دہشت گردی۔۔۔۔ اس میں جہاں کم عمر لوگ سامنے آ رہے ہیں، وہین زیادہ تعداد بیس سے اوپر کے لوگوں کی ہے۔

اسی کو سامنے رکھتے ہوئے میرا سب قارئین سے سوال ہے کہ اگر عورت کے نوکری کرنے سے اولاد کی تربیت کا ہرج ہوتا ہے اور گھر گرہستی خراب ہوتی ہے تو پھر معاشرے میں یہ ابتری کہاں سے آئی۔ یہ سارے مسائل تو اس نسل کے پیدا کردہ ہیں جن کی مائیں گھروں مین تربیت کیلئے موجود تھیں! پھر کیا وجہ ہوئی کہ اسوقت ہماری تین نسلیں اپنی شناخت کھو بیٹھی ہیں؟

باشعور قومیں اپنے تجربوں اور تجزیوں سے سیکھتی ہے مگر ہم مفروضوں پر ہی بات کرتے رہتے ہیں اور کبھی ان مفروضوں کو جانچنے اور پرکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ عورت کے تعلیم اور نوکری کیلئے گھر سے باہر نکلنے کو جواز بنا کر ہم کب تک بطور قوم اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالتے رہیں گے۔ مسئلہ ماں کی تربیت کا نہیں ہے بلکہ بطور قوم ہمارے مزاج کا بھی ہے!

بم میں سوچ و فکر کی عادت مفقود ہو چکی ہے۔ ہمارے معاشرتی مسائل اور گھریلو سیاست اسقدر قوی ہو چکی ہے کہ ہمیں مدت سے اپنے بچوں کی تربیت کی فکر جاتی رہی ہے۔ ہم بطور قوم خود غرضی اور خود پسندی کا شکار ہیں۔ ایک عام گھر میں میاں بیوی اولاد کی تربیت سے زیادہ ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کے چکر میں رہتے ہیں؛ ایسے میں سسرالی رشتے دار جلتی پر تیل کا کام کرتے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا بجا ہو گا کہ ہمارے ہاں میاں بیوی اولاد کی تربیت کے سلسلے میں بات چیت کو نہ تو اہمیت دیتے ہیں اور نہ ہی اسکی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔

ہمارے رشتے لالچ کے رشتے بن چکے ہیں اور اس کھینچا تانی میں اولاد کی تربیت کہیں پس پشت چلی گئی ہے۔ خود سے اوازار مائیں بچوں کے ہاتھوں تنگ آ کر انہین ٹیوٹر کے حوالے کرنے کے بعد مطمئن ہیں۔ اپنے حالات سے غیر مطمئن باپ گھر میں پیسہ فراہم کرنے بعد ہر فکر سے آزاد ہیں۔ باقی رشتے تاک میں ہیں کہ کیسے ایک دوسرے کو نیچا دیکھایا جا سکے۔ دوستیوں، رشتےداریوں، ٹی وی ، اور کمپیوٹر نے مصروفیات اسقدر بڑھا دی ہیں کہ تربیت کے نام پر صرف بچوں کو انکی پسند کے شاپنگ کروائی جاتی ہے۔

اپنے ارد گرد غور سے دیکھئیے! اگر آپ کھلی آنکھوں سے دیکھیں گے تو آپ یہ جان جائیں گے کہ معاشرے میں بکھری ہوئی ابتری کا تعلق صرف عورت کے نوکری کیلئے گھر سے باہر نکلنے سے نہیں ہے۔ یہ اس سے بڑا مسئلہ ہے۔۔۔۔یہ ہماری نسلوں میں پھیلی ہوئی بے اطمینانی اور حقوق و فرائض کی روگردانی کا مرہون منت ہے۔ یہ مسئلہ ہماری ماضی پرستی اور نشاۃ ثانیہ کا ہے جو ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتا۔ یہ مسئلہ ہماری تن آسانی اور مادہ پرستی کا ہے۔

کسی بھی مسئلے کے حل کیلئے اسکی صحیح نشاندہی ضروری ہے۔ کیا آپکو لگتا ہے کہ ہم اپنے مسائل کو تعصب سے پاک ہو کر دیکھتے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر ضرورت اس بات کی ہے کہ ایک ہی بات کا ڈھول پیٹنے کی بجائے بطور قوم ہم اپنا تجزیہ کریں۔۔۔۔مسئلے کو صحیح سے پہچانیں اور پھر اس کے حل پر غور کریں، ورنہ صفحے سیاہ کرنے سے ہماری تقدیر بدلنے کی نہیں!!!

 

لڑکی نے لڑکے پر تیزاب پھینک دیا!

لڑکی نے لڑکے پر تیزاب پھینک دیا

 

پہلے چند خیالات یہ تھے

 

چل سوچل

جیسی کرنی ویسی بھرنی

ایک سیر دوسرا سوا سیر

جیسے کو تیسا

ایک ہاتھ دے ایک ہاتھ لے

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

 

پھر پہلے اور آخری خیال پر ذہن اٹک گیا ۔۔۔۔ عورت پر تو پاکستان میں عرصہ حیات عرصہ سے تنگ ہے مگر کبھی بھی کسی نے مان کر نہیں دیا۔ یہاں تک کہ خواتین بھی ماننے سے انکاری رہی ہیں کہ ان کو تکریم  نہین دی جاتی۔ مگر اس رد عمل نے بہت سوں کے چودہ طبق روشن کر دیئے ہیں۔ اور اگر نہیں کیے تو پھر شاید اوپر کا خانہ خالی  ہے۔۔۔۔۔

 

چینی کہاوت ہے کہ بلی کے جانے کا راستہ چھوڑ دو۔۔۔۔ نہیں چھوڑو گے تو نوچ کھائے گی۔ آخر کہاں تک برداشت کی حد جا سکتی ہے۔۔۔۔کسی نا کسی نے تو پہل کرنی ہی تھی۔ اس سے سرف نظر کے لڑکی کا کیا کردار تھا، معاشرہ عمومی طور پر کونسا ایسا پاک صاف ہے کہ لڑکی کے فعل کو تنقید کا نشانہ بنائے۔۔۔۔

 

بلکہ اب تو  انصاف کے معاملے میں  کم از کم ہم خود کفالت کا دعوٰی کر سکتے ہیں۔ پہلے مرد اپنے ترازو میں نیواں تول کر عورت کو انصاف کے کٹہرے میں کاری کرتا تھا۔ اب ایک اوست عقل کی عورت نے انصاف کا ترازو اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے ۔۔۔۔ مرد ہشیار باش۔۔۔۔ رات کو منہ سر لپیٹ کر سوئیں کہ کہیں پڑے سوتے ہی نہ رہ جائیں!

 

ماں باپ کی فکر ختم ہوئی۔۔۔۔ پہلے انہوں نے لڑکوں کو گند مارنے کیلئے آزاد چھوڑا ہوا تھا کہ باہر ہی منہ مارتے ہیں ۔۔۔۔خیر ہے۔۔۔۔ کوئی نہیں سوچتا تھا کے سارے دن کی آوارہ گردی کے بعد گھر آنے والا بیٹا کس کا گھر برباد کر کے آیا ہو گا۔۔۔۔ اب لڑکیوں نے بھی اپنے مقدر کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔۔۔ گھریلو جھگڑوں ، ساس بہو، اور شوہر بیوی کی ناچاقیوں میں مصروف ماں باپ کو مزید چھٹی ۔۔۔۔!

 

پولیس کا کام بھی آسان کہ مدعی اور مجرم اپنا جھگڑا نبیڑ کر خود ہی حاضر ہو جائیں کہ میں نے یہ کیا تھا، اس نے یہ کیا تھا ۔۔۔۔ پولیس کو ناحق تکلیف سے چھٹکارا ۔۔۔۔ تھانے کا ریکارڈ بھی اچھا اور جیل میں قیدیوں کی تعداد میں بھی اضافہ۔۔۔۔ اب یہ کھل ڈل کر سیاستدانوں کو پرٹوکول دیں اور ترقی کی نئی منزلیں طے کریں۔۔۔۔

 

سیاست دان اپنے طلسماتی چشموں سے دیکھتے ہوئے سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہوئے ساتھ کے ساتھ ہنستے ہوں گے کہ جیسے حاکم ، ویسی قوم۔۔۔۔ مولویوں نے داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے سوچا ہو گا کہ استغفراللہ کہنے پر اکتفا کیا جائے یا اس مسئلے پر کوئی حد نافد کی جائے ۔۔۔۔ خواتین کی تنظیموں کی طرف سے خاموشی کے بعد انہوں نے بھی خاموش رہنے میں ہی عافیت سمجھی ہو گی ۔۔۔۔ آخر کاری اور قرآن کے ساتھ شادی (نعوذباللہ) جیسے گھناؤنے معاملات پر پگاڑے جیسے لوگ کبھی نہ بولے تو یہ تو عام سی بات ہے۔۔۔۔

 

ہاں شرمین چنوئے سر پکڑ کا بیٹھی ہو گی کہ کدھر پھنس گئی ۔۔۔۔ مگر میڈیا کی پھر سے دسوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے ۔۔۔۔ کوئی میڈیا سے نہیں پوچھنے والا کہ یہ لچک مچک سے بھرپور لچر ڈرامے دیکھانے کے بعد آپ ایسی خبروں پر واویلہ کیوں کرتے ہیں ۔۔۔۔ میڈیا نے معاشرے کو آئینہ دیکھانے کے چکر میں بے لباسی کا درس دیا ہے ۔۔۔۔ مگر اب ایک بدحال اور بدہیئت معاشرے کی کہانی ایسے مزے لے کر سنا رہا ہے جیسے کوئی عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا ہو۔۔۔۔ اور شاید واقعی میں عالمی ریکارڈ قائم ہو گیا ہو!!!  

حمام کا حجم۔۔۔۔

 

 

اکثر سننے میں آتا ہے کہ فیکٹریوں سے نکلی غلاظت سے آبیار کی  فصل کے  مہلک اثرات سبزیوں، پھلوں کے ذریعے انسانوں تک پہنچتے ہیں اور صحت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں ۔۔۔۔ مگر اس حمام سے نکلی غلاظت نے تو نہ صرف پاکستانیوں کے جسموں بلکہ ذہنوں کو بھی مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔۔۔۔یونس حبیب جیسے لوگ ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکر اب گناہوں سے معافی کے خواستگار ہیں ۔۔۔۔یہ المیہ نہیں تو کیا ہے۔۔۔۔

 

جدھر دیکھو پیسے کی ریل پیل ہے یا پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیسے کی ریل پیل ہے مگر ملک ہے کہ ترقی کرکے ہی نہیں دیتا۔ نا قابل فہم سی بات ہے کہ گھر گھر میں کیبل ہے اور ہر ہاتھ میں سیل فون مگر قطار میں کھڑے ہونے کا شعور نہیں ۔۔۔۔ پیسے کی چاہت ہے مگر محنت کی عادت نہیں۔۔۔۔ اب سمجھ میں آتا ہے کہ ایسا کیونکر ہوتا ہے ۔۔۔۔ جب یونس حبیب جیسے گدھ اور آئی ایس آئی جیسے محکمے مادر وطن کی چادر کو چاک کر دیں تو پھر اس ملک نے کاری ہی ہونا ہے نا۔۔۔۔۔۔

 

حیرت انگیز ہے نا یہ بات کہ ایک  قوم کے افراد مسلسل کام کر رہے ہیں مگر حاصل وصول صفر ہو جائے ۔۔۔۔ سالوں پر محیط سفر ہو مگر منزل کا پتا نہ ہو۔۔۔۔ اسلام کا دعوٰی ہو مگر دین کا دور دور گزر نہ ہو ۔۔۔۔ غیرت کی بات ہو اور عورت کی عزت تار تار ہو ۔۔۔۔ جہاد کا درس ہو اور معصوم جانوں کا ضیاع ۔۔۔۔۔ کیسے آجاتا ہے اتنا تضاد کسی قوم میں۔۔۔۔

 

بہت عرصہ پہلے ایک فورم میں بحث ہوئی تھی اس بات پر کہ جب ایبٹ آباد کی پہاڑیوں پر جگہ جگہ یہ لکھا ملتا ہے کی جہاد کی ٹرینگ ہم سے حاصل کریں تو آئی ایس آئی کچھ کیوں نہیں کرتی تو بہت لے دے ہوئی تھی ۔  ایسی باتیں کرنے والے اکثر غدار وطن ٹہھرائے جاتے ہیں ۔۔۔۔ مگر اب تو بلے ، بلیاں سب تھیلوں سے باہر آ گئے بمع اپنے مال متاع کے کے۔۔۔۔۔۔

 

جنہوں نے آگے دیا ہو گا تو کیا انہوں نے خود مال نہیں بنایا ہو گا؟ ۔۔۔۔ یہ ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب کوئی نہیں دیتا ۔۔۔۔ یہ آئی ایس آئی اور فوج کیا یہ خود نہیں کھاتی؟ کیا ان کی بڑی بڑی کوٹھیاں اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ مال کہاں سے آتا  ۔۔۔۔  وینا ملک نے آئی ایس آئی کو خوب ننگا ہی نہیں کیا بلکہ کہ اس کا اصل کام بھی قوم کے سامنے پیش کیا ہے ۔۔۔۔

 

ہماری عوام آئی ایس آئی اور فوج کو ایسے پوجتی ہے جیسے یہ نعوذ باللہ خدا ہوں مگر اب تو اس حمام میں سب ہی ننگے ہو گئے ۔۔۔۔ اب مجھے ڈر ہے کہ اس حمام کو اس کے ممبران کی تعداد کے حوالے سے اتنا بڑا نا کرنا پڑے کے ایک نئے صوبے "ننگ قوم و وطن” کا قیام عمل میں لانا پڑے۔ ویسے حمام کے نکلے پانی نے قوم کو ایسے مفلوج اور مفلوک کر دیا ہے کہ وہ اب بھی اپنی اپنی پارٹی کا دفاع کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔۔۔۔ کمال ہے نا!

 

سب  لوگ اس خبر سے حیران و پریشان ہے مگر یہ کوئی ایسی حیرت انگیز بات بھی نہیں۔۔۔۔پہلے صرف تعفن اٹھنے کا پتا تھا ۔۔۔۔۔ اب یہ واضح ہوا ہے کہ تعفن کی سورس کیا ہے۔۔۔۔ بس اب تو کوڑے والے کنٹینرز پر ” کوڑا دان "لکھ دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے   کوڑا یہاں ڈالا گیا تھا اور یہ بھی کہ کس نے ڈالا تھا۔۔۔۔ کوڑا ڈالنے کا حدود اربع واضح ہوا ہے ، کوڑے کی حالت اور ساخت تو وہی ہے۔۔۔۔۔۔

 

یہ تو پہلے ہی پتہ تھا کہ آئی ایس آئی کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔ تو کیا یہ دہشتگردی بھی انہی کی مرضی سے ہو رہی ہے؟ کیا ایسا ممکن ہے؟ ۔۔۔۔۔ کسی بات پر اچھنبا نہیں اب تو ۔۔۔۔۔ یہ تو پتاتھا کہ ہو رہا ہے سب کچھ ۔۔۔۔۔ اب سب کو نیم ٹیگ بھی مل گئے ہیں ۔۔۔۔۔ باہر نکل کر دیکھیں کہ کتنے عام پاکستانی اس بات سے پریشان ہیں ۔۔۔۔۔ خاص طور پر پی پی اور ایم کیو ایم کی ووٹر لسٹ کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا ۔۔۔۔۔ مسلم لیگ کی ووٹر لسٹ تو ویسے ہی ایویں ہے ۔۔۔۔۔ کیا فرق پڑے گا بھلا ۔۔۔۔۔

 

کسقدر شرم کا مقام ہے کہ ایک پارٹی اب بھی دوسری کو الزام دے رہی ہے ۔۔۔۔ ایک کے پیرو بھنگڑے ڈال رہے ہیں جبکہ جانتے ہیں کہ پیسہ یہاں سے نہیں لیا ہو گا تو کہیں اور سے لے لیا ہو گا ۔۔۔۔ آخر کراچی میں عرصہ قدیم سے اغوا کی وارداتیں ہو رہی ہیں ۔۔۔۔ اور کیا ان کا لیڈر مغلوں کی سلطنت لیکر پیدا ہوا تھا جو اب تک لندن میں عیش کر رہا ہے۔۔۔۔۔

 

جیسے کاکروچ ایٹمی دھماکے کے بعد بھی بچ گئے تھے، اسی طرح ہمارے سیاست دانوں کو بھی کچھ نہیں ہونے والا ۔۔۔۔ عوام بھی سیاست دانوں کی دیکھا دیکھی "ایمیون” ہوتی جارہی ہے۔۔۔۔ ایسے میں فوج اور آئی ایس آئی کا کردار تو تاک میں بیٹھی چھپکلی کا سا لگنے لگ گیا ہے!۔۔۔۔۔ بدبو کی عادت ہو جائے تو سونگھنے کی حس ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ اب اس حمام کے اندر کے تعفن سے بھی کسی کا سانس نہیں اکھڑنے والا اور نہ ہی اس کے بدبودار کے اخراج سے قوم کا دم گھٹنا ہے ۔۔۔۔ ارتقا زندہ باد ۔۔۔۔!!!

 

مگر مگر شاید ۔۔۔۔ ایک چھوٹی سی امید ۔۔۔۔ ایک ہلکی سی آس ۔۔۔۔۔ شاید یہ غلاظت ملک و قوم کیلئے کھاد کا کام دے جائے ۔۔۔۔۔ شاید ۔۔۔۔۔ مگر اس کیلئے اسے ڈھانپ کر اس کی آکسیجن بند کرنی پڑے گی  ۔۔۔۔ بدبو کو پھینلے سے روکنا پڑے گا ۔۔۔۔ جب یہ مکمل طور پر تباہ و برباد ہو کر گل سڑ جائے گی تو تب ہی نئی کونپلوں کیلئے طاقت کا باعث بنیں گی ۔۔۔۔ غلاظت کو ختم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔۔۔۔ اسے ہمیشہ کیلئے زندہ دفنا دیا جائے ۔۔۔۔۔۔!!!!

 

تمھیں جرات کیسے ہوئی۔۔۔۔

 

کیا آپ نے وہ ویڈیو دیکھی۔۔۔۔

جی میں نے بھی دیکھی۔۔۔۔

غرور، تکبر، سے تنی ہوئی گردن

بے حسی اور بے غیرتی کی منہ بولتی تصویر

ایک اور بے حیا اس قوم کے لیڈر کا روپ دھارنے لگی ہے

ہاں میں اسے بے حیا ہی کہوں گی

جس کی آنکھ میں حیا ہو وہ اتنا بیباک نہیں ہو سکتا

جس کی آنکھ میں حیا ہو وہ اتنا بے ڈر نہیں ہو سکتا کہ اللہ کی مخلوق پر ہاتھ اٹھانے سے اسے ڈر نہ لگے

اپنے سے کمزور پر ہاتھ اٹھانے سے ڈر نہ لگے

کم از کم کوئی حیا دار عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ یہ سب نہیں کرتی

یہ وطیرہ تو آبرو باختہ اور بد کردار عورتوں کا ہوتا ہے

تو پھر یہ طے ہوا کہ "وحیدہ شاہ” ایک بے غیرت عورت ہے

 

 

مگر اس کا ہاتھ بھی تو کسی نے نہیں پکڑا

اسے کسی نے یہ بھی نہیں کہا کہ تمھیں جرات کیسے ہوئی

اسے کسی نے پکڑ کر جھنجھوڑا بھی نہیں

پولیس بھی تماشا دیکھتی رہی

اور پبلک بھی

ایک تھپڑ کھانے والی نے بمشکل اپنا چہرہ کیمرے سے چھپایا

دوسری کی گیلی آنکھوں کی تپش نے یہاں تک بھی مجھے جھلسایا

وحیدہ شاہ افسوس کے عورتوں کے اس ہجوم میں کسی نے تمھیں نہیں للکارا

تم ایک بے غیرت عورت ہو

تم ایک ظالم عورت ہو

اور تم سب عورتیں جو کھڑی تماشہ دیکھتی رہیں تم بھی اس ظلم میں شامل ہو

اور تم جو تھپڑ کھا کر خاموش رہیں

تمھیں کیا کہوں

تم نے آج ایک اور ظالم کے ہاتھ مضبوط کیے

تم شاید اس لئے خاموش رہیں کہ تمھیں اپنی عزت پیاری ہو گی

تمھیں اپنی جان پیاری ہو گی

یا پھر تمھیں اس "سیدزادی” کی بددعا کا ڈر ہو گا

جو بھی تمھاری مجبوری تھی مگر کم از کم ایک بار تو ضرور سوچو کہ تم یہ ہاتھ روک سکتی تھیں

توڑ سکتی تھیں

تم ایک بار تو کہہ سکتی تھیں۔۔۔۔

تمھیں جرات کیسے ہوئی وحیدہ شاہ کہ تم مجھ پر ہاتھ اٹھاؤ

تم پاکستان کی بیٹی اس ظلم کو  روک سکتی تھیں

ظالم کا ہاتھ توڑ سکتی تھیں!!!